
رات کی خاموشیوں میں تیرا نام گنگناؤں،
ٹوٹے ہوئے خوابوں کو پھر سے میں سجاؤں۔
ہر قدم پہ آس رکھوں، ہمت نہ کبھی ہاروں،
اپنی منزل کی خاطر ہر مشکل سے میں لڑ جاؤں۔
میں چلوں گا، میں بڑھوں گا، اپنی قسمت خود لکھوں گا۔
اندھیروں سے نہ ڈروں گا، ایک دن ضرور چمکوں گا۔
میں چلوں گا، میں بڑھوں گا، اپنی قسمت خود لکھوں گا۔
اندھیروں سے نہ ڈروں گا، ایک دن ضرور چمکوں گا۔
ہوا بھی ساتھ دے گی، وقت بھی بدل جائے گا،
صبر کا ہر ایک لمحہ رنگ ضرور لائے گا۔
دل میں امید زندہ ہو تو راستہ نکلتا ہے،
محنت کرنے والوں کا خواب سچا ہوتا ہے۔
میں چلوں گا، میں بڑھوں گا، اپنی قسمت خود لکھوں گا۔
اندھیروں سے نہ ڈروں گا، ایک دن ضرور چمکوں گا۔
میں چلوں گا، میں بڑھوں گا، اپنی قسمت خود لکھوں گا۔
اندھیروں سے نہ ڈروں گا، ایک دن ضرور چمکوں گا。