
دل نے کہا ٹھہر جا
راستہ ابھی باقی ہے
گرد نے آنکھیں ڈھانپیں
مگر دعا تو باقی ہے
ہم نے ٹوٹ کر بھی
خود کو سنبھالا ہے
جس نے تھام لیا ہو
وہ کہاں اکیلا ہے
فاصلوں نے آزمایا
وقت نے بھی گھیر لیا
پاؤں میں تھکن تھی
پھر بھی دل نے خیر لیا
جتنی بھی دوری ہو
اتنی ہی پکار نہیں
جس کو تو نے یاد رکھا
وہ کبھی بے یار نہیں
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود ہی پہنچیں گے ہم بھی مدینے کبھی
ہم کو دنیا کے اتنے پکارا نہیں
ہر قدم پہ کانٹے تھے
ہم نے مسکرا کے چنے
رات کے اندھیرے میں
ہم نے نام کے چراغ جلے
لوگوں نے کہا شاید
یہ سفر نہ ہو سکے گا
پر ہمیں یقین تھا
دل کا در نہ ہو سکے گا
دشت بھی سمندر تھا
اور نفس بھی ہار سا
پھر بھی اک امید تھی
جیسے صبح کا اشارہ سا
جس طرف نظر ٹھہری
وہی سمت بن گئی
جو بھی روکنا چاہے
اس کی بات کم پڑ گئی
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود ہی پہنچیں گے ہم بھی مدینے کبھی
ہم کو دنیا کے اتنے پکارا نہیں
ہم نے رستہ مانگا تھا
روشنی نہیں مانگی
ہم نے صرف تو نے کہا
باقی کچھ نہیں مانگی
دل کی اس صدا میں
ایک مدعا چھپا ہوا
پہنچنا تو طے ہے
بس ابھی سفر رہا
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود ہی پہنچیں گے ہم بھی مدینے کبھی
ہم کو دنیا کے اتنے پکارا نہیں
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں