سرد صبحیں، دھند میں لپٹی سڑکیں خاموش
انجن کی آواز میں دل کی دھڑکن مدہوش
لمبی راہوں پر تنہا سفر کرتا ہوں
اک نئے کل کے لیے آج سے لڑتا ہوں
جیب میں خواب ہیں، بوجھ زمانے کا ساتھ
کم عمر کندھوں پہ ذمہ داریوں کا ہاتھ
کوئی نہیں جانتا دل میں کیا جلتا ہے
خاموش انسان بھی اندر سے مچلتا ہے
پری کورس
ہر ہار نے مجھے مضبوط کیا
ہر درد نے نیا حوصلہ دیا
کورس
میں خالی ہاتھ آیا تھا مگر ہارا نہیں
اینٹ اینٹ جوڑ کر خود کو سنوارا یہی
بارش، اندھیروں، شک کے پار گیا
میں وہ بن رہا ہوں جو کبھی سوچا نہ تھا
سرمئی فضاؤں میں بھی نظر اونچی رہی
پردیس کے آسمان تلے پہچان بنی
میں اپنی کہانی خود لکھتا ہوں —
گرتا ہوں، اٹھتا ہوں، پھر بڑھتا ہوں
⸻
انترا 2
رات گئے روشنی میں خواب سنورتے ہیں
کاغذ پہ لکھے خیال راستے بنتے ہیں
چھوٹی سی دکان سے بڑے ارمان تک
میں چل پڑا ہوں اپنے ہی جہان تک
نظام کو سیکھ کر اپنا بناؤں گا
مشکل کو موقع میں بدلتا جاؤں گا
کامیابی بھی چاہیے، دل بھی بڑا
اپنے ساتھ دوسروں کو لے کر چلا
پری کورس
بند دروازوں نے سکھایا بنانا
گر کر پھر خود کو اٹھانا
کورس
میں خالی ہاتھ آیا تھا مگر ہارا نہیں
اینٹ اینٹ جوڑ کر خود کو سنوارا یہی
بارش، اندھیروں، شک کے پار گیا
میں وہ بن رہا ہوں جو کبھی سوچا نہ تھا
سرمئی فضاؤں میں بھی نظر اونچی رہی
پردیس کے آسمان تلے پہچان بنی
میں اپنی کہانی خود لکھتا ہوں —
گرتا ہوں، اٹھتا ہوں، پھر بڑھتا ہوں
⸻
برج
وہ راتیں کسی نے دیکھی ہی نہیں
جب خاموشی میں آنکھ نم تھی کہیں
مگر سینے میں یقین کی روشنی ہے
اندھیروں میں بھی یہی زندگی ہے
دعاؤں کی گرمی دل میں جلتی ہے
طوفان کے بعد صبح نکلتی ہے
جو لڑکا کبھی اکیلا آیا تھا یہاں
کل فخر سے سر اٹھائے کھڑا ہوگا وہاں
⸻
آخری کورس
میں خالی ہاتھ آیا تھا مگر ہارا نہیں
اب خوابوں کا شہر ہے، بس سہارا یہی
آندھی، طوفان سب پار کیے
دل میں جلتے چراغ تھام لیے
نیا افق، نئی روشنی، نئی راہ ملی
کوئی زنجیر مجھے روک نہ سکی
میں اپنی کہانی خود لکھتا ہوں —
گرتا ہوں، اٹھتا ہوں، پھر بڑھتا ہوں